Dinutvei.no Logo Nasjonal veiviser
ved vold og overgrep

وی او-ہیلپ لائن – 116 006

Logo VO-linjen

وی او ہیلپ لائن – نارویجین قومی گھریلو تشدد ہیلپ لائن 116 006 (Vold- og overgrepslinjen) – گھریلو تشدد یا بدسلوکی سے متاثرہ ہر فرد کے لئے کھلی رہتی ہے۔

سروس تمام ناروے کا احاطہ کرتی ہے، جو مفت ہے اور 24/7 کھلی رہتی ہے۔ آپ مدد، مشورے اور سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لئے اس نمبر پر کال کر سکتے ہیں، لیکن اگر آپ کو بات کرنے کے لئے صرف سننے والے شخص کی ضرورت ہو تو آپ تب بھی کال کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے رہنے کی جگہ کے قریب موجود دیگر خدمات کا پتہ لگانے کے لئے بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

ہیلپ لائن کا عملہ تشدد اور بدسلوکی کے مسائل کو روزانہ کی بنیاد پر پیشہ ورانہ طور پر نمٹاتا ہے اور تشدد اور بدسلوکی سے متاثرہ افراد کے لئے صلاح مشورے میں تجربے کا حامل ہے۔ رازداری کو برقرار رکھنا عملے کا فریضہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ آپ کی ذاتی معلومات کو صرف آپ کی رضامندی سے ہی، یا اگر کوئی انتہائی خطرہ ہو تو، کسی تیسرے فریق کو ظاہر کر سکتے ہیں۔

“ہیلپ لائن کا عملہ تشدد اور بدسلوکی کے مسائل کو روزانہ کی بنیاد پر پیشہ ورانہ طور پر نمٹاتا ہے”

اگر آپ ترجیح دیں، تو آپ ہیلپ لائن پر گمنام طور پر کال کر سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنا نام بتانے کی ضرورت نہیں ہے، یا کوئی اور نام بتا سکتے ہیں۔ عملہ نارویجین زبان بولتا ہے۔ مدد انگریزی میں بھی دستیاب ہے۔

ہیلپ لائن عوامی شعبے کے پیشہ ورانہ افراد، اور متاثرین کے اہل خانہ، دوستوں یا ساتھیوں کو بھی خدمات پیش کرتی ہے۔

قومی گھریلو تشدد ہیلپ لائن  شیلٹر موومنٹ کے سیکرٹریٹ اور اوسلو کرائسز شیلٹرکے ذریعہ چلائی جاتی ہے، اور اسے وزارت انصاف اور عوامی تحفظ کی طرف سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

رابطہ کی معلومات

ہیلپ لائن 116 006

وی او ہیلپ لائن (قومی گھریلو تشدد ہیلپ لائن) کی ویب سائٹ

KORONAKRISEN – HJELP VED VOLD OG OVERGREP

Døgnåpne tjenester:

Er du voksen og trenger selv hjelp eller ønsker å hjelpe en annen voksen?

Er du bekymret for et barn eller trenger hjelp i omsorgen for barn?

På nettsidene våre finner du oversikt også over andre hjelpetilbud. Det varierer hva de ulike tjenestene kan tilby i øyeblikket. Vi anbefaler deg likevel å ta kontakt og sjekke ut hvilken hjelp du kan få. Spørsmål- og svartjenesten på dinutvei.no er også åpen.