Forlat siden Nasjonal veiviser
ved vold og overgrep

اردو Urdu

اس وقت آپ ویب سائیٹ  dinutvei.no پر ہیں جو زنا بالجبر اور گھریلو تشدد یا موجودہ یا سابقہ ازدواجی ساتھیوں کے بیچ تشدد کے بارے میں امدادی خدمات، معلومات اور علم فراہم کرنے والا قومی سطح کا رہنما ویب سائیٹ ہے۔ اس ویب سائیٹ کو تشدد اور صدمات کے دباؤ سے متعلق قومی معلوماتی مرکز  (Nasjonalt kunnskapssenter om vold og traumatisk stress, NKVTS)  انصاف اور پبلک سیکورٹی کی وزارت کی جانب سے ذمہ داری سونپی جانے پر  چلاتا ہے۔

سب لوگوں کو خوف اور تشدد سے پاک زندگی کا حق حاصل ہے۔ ناروے میں بہت زیادہ انسان متشدد رشتوں میں جی رہے  ہیں۔ قریبی رشتوں میں تشدد اور زنا بالجبر ایک ذاتی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک معاشرتی ذمہ داری ہے۔

  تشدد کی بہت سی صورتیں ہیں، اور شاید آپ ٹھیک سے نہ کہ سکتے ہوں کہ آیا آپ کو، یا آپ کے کسی واقف کو، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا بنایا گیا ہے؟ یا شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ کیا آپ دوسروں پر تشدد  کرتے ہیں؟ بہت سے لوگوں کو یقین سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ دراصل تشدد کیا ہے۔ آپ اس بارے میں نیچے مزید تفصیل پڑھ سکتے ہیں۔

کیا آپ کو قریبی رشتے میں تشدد کا نشانہ بنایا گيا ہے؟

آپ خود کو تشدد کا نشانہ بننے سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

کیا آپ کو زنا بالجبر یا کسی اور طرح کی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گيا ہے؟

زنا بالجبر یا جنسی زیادتی کے بعد عام ردعمل

کیا آپ کا کوئی واقف تشدد کا شکار ہے؟

کیا آپ کسی کو تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بناتے ہیں؟

 

 کیا آپ کو قریبی رشتے میں تشدد کا نشانہ بنایا گيا ہے؟

قریبی رشتوں میں تشدد (جسے پارٹنر یعنی ازدواجی ساتھی کی طرف سے تشدد یا گھریلو تشدد بھی کہتے ہیں) میں موجودہ اور سابقہ افراد خانہ کی جانب سے جسمانی اور ذہنی تشدد  اور دھمکیاں شامل ہیں، اور  اس میں تشدد والے گھر میں زندگی گزارنے والے بچے بھی شامل ہیں۔ جنسی اعضا کو کاٹنا اور جبری شادی بھی اسی اصطلاح کے تحت آتےہیں۔

ناروے کے قانون کے مطابق قریبی رشتوں میں تشدد قابل سزا جرم ہے۔ آپ کو بھروسہ رکھنا چاہیئے کہ امدادی ادارے اور پولیس، سبھی ان کیسوں کو اہمیت دیتے ہیں۔

 اکثر لوگ تشدد کا مطلب مار پیٹ، ٹھوکریں یا جسمانی نقصان ہی سمجھتے ہیں تاہم ان کے علاوہ بھی تشدد کی بہت سی قسمیں ہیں۔ کسی کو اس کی مرضی کے خلاف روکے رکھنا، گالیاں دینا، توہین کرنا، الگ تھلگ کرنا یا اپنے کنٹرول میں رکھنا بھی تشدد کی مثالیں ہیں۔

:ہم بالعموم تشدد کی ان مختلف قسموں کا ذکر کرتے ہیں

  • جسمانی تشدد: ایسا تمام تشدد جس میں جسم کو چھوا جاتا ہو  - ٹھوکریں لگانا، مارنا، بال کھینچنا، دانت کاٹنا، ناخن مارنا، پکڑے رکھنا، جھٹکے دینا، دھکے دینا، گلا دبانا۔ کمرے/گھر میں بند کرنا اور دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ رکھنا بھی جسمانی تشدد کی صورتیں ہیں۔
  • ذہنی تشدد: ایسے الفاظ اور آواز کا استعمال جو دوسروں کو دھمکانے، نقصان پہنچانے، توہین کرنے یا حکم چلانے کیلئے ہوں۔ دوسروں کو حقیر سمجھنا، ان کی پرواہ نہ کرنا اور بے عزتی کرنا بھی ذہنی تشدد کی صورتیں ہیں۔ مثالیں: "میں تمہیں جان سے مار دوں گا"، "تمہاری کوئی اوقات ہی نہیں"، "تم اتنی بدصورت اور موٹی ہو کہ کوئی تم سے محبت نہیں کر سکتا"۔
  • مادی تشدد:چیزیں توڑنا، خراب کرنا اور پھینکنا، دیواروں اور دروازوں وغیرہ پر ضربیں لگانا
  • جنسی تشدد: کسی کی مرضی کے خلاف جنسی حرکات کی تمام صورتیں۔ مثالیں: ایسی حرکتیں یا حرکتوں کی کوششیں جن میں جسم کو چھوا جاۓ جیسے ہاتھ لگانا، جنسی اعضا پر ہاتھ پھیرنا، چاٹنا، چوسنا، مشت زنی کرنا، ہم بستری جیسی حرکتیں، ہم بستری اور زنا بالجبر، اور جسم کو چھوۓ بغیر ایسی حرکتیں یا حرکتوں کی کوششیں جیسے جنسی گفتگو، جنسی اعضا دکھانا، فوٹو کھینچنا، فلم بنانا، تاک جھانک اور فحش فلمیں یا تصویریں دکھانا
  • مالی تشدد: دوسروں کے مالی معاملات کو کنٹرول کرنا؛ میاں یا بیوی کااپنے ساتھی کو اس کے اپنے یا دونوں کے مشترکہ مالی معاملات پر اختیار سے محروم رکھنا
  • مخفی تشدد: وہ تشدد "جو فضا میں منڈلا رہا ہو"، تشدد کے واقعے سے پہلے یا بعد میں ایک خاص فضا
  • پرورش کے سلسلے میں تشدد: پرورش کے ضمن میں بچوں اور نوجوانوں کو اپنا رویہ بدلنے کیلئے جسمانی اور ذہنی سزا دینا

ان میں سے کئی قسمیں نارویجن قانون کے تحت براہ راست قابل سزا جرم ہیں جبکہ کچھ قسمیں ایسی زیادتیاں ہیں جو سنگینی، کثرت یا سیاق و سباق کے لحاظ سے قابل سزا جرم بھی ہو سکتی ہیں یا جو قانون کی دوسری دفعات کے تحت آتی ہیں جیسے دھوکہ دہی۔ تشدد کی ان صورتوں میں سے کئی صورتوں کا ایک ساتھ پاۓ جانا عام ہے۔

 آپ کی صنف سے قطع نظر ، آپ تشدد کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ تاہم مردوں کی نسبت عورتوں کے ساتھ اپنے ازدواجی ساتھی کی جانب سے بار بار سنگین تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات زیادہ کثرت سے ہوتے ہیں۔

 کچھ گروہوں کیلئے قریبی رشتوں میں تشدد پیش آنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ تشدد کے امکان پر اثرانداز ہونے والے عوامل یہ ہیں: صنف، عمر، معذوری یا کمزوری، جنسی رجحان، سماجی و مالی پس منظر، حمل، ترک وطن اور نشہ۔

 آپ خود کو تشدد کا نشانہ بننے سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

ہم جانتے ہیں کہ تشدد والے رشتے سے الگ ہونا مشکل ہو سکتا ہے۔ بالعموم گھرانے سے باہر کے لوگوں کی مدد  کے بغیر تشدد نہیں رکتا۔

 آپ کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر آپ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، دھمکیاں دی جاتی ہیں، یا آپ کو تشدد کا نشانہ بناۓ جانے کا ڈر ہے، یا اگر آپ یہ سوچتے ہوں کہ کیا آپ کے ساتھ ہونے والا سلوک تشدد ہے، تو آپ کو ضرور کسی سے بات کرنی چاہیئے۔ یہاں امدادی خدمات کی فہرست دی جا رہی ہے

سنگین تشدد اور دھمکیوں کی صورت میں اور جان کا خوف ہونے کی صورت میں فون نمبر02800 یا ایمرجنسی نمبر 112 پر پولیس (politiet) سے رابطہ کریں۔ اگر یہ کسی بچے یا نوجوان کا معاملہ ہو تو ادارہ تحفظ بچگان (barnevernet) کو اطلاع دینا بھی ضروری ہے۔

 تشدد کا نشانہ بننے والے بہت سے لوگوں کیلئے سب سے اہم یہ نہیں ہوتا کہ تشدد کرنے والے کو سزا  دلائی جاۓ بلکہ تشدد کا سلسلہ روکنا اور تحفظ حاصل کرنا اہم ہوتا ہے۔ امدادی اداروں میں ایسی خدمات موجود ہیں جو تشدد کرنے والے فریق اور مظلوم فریق دونوں کیلئے ہوتی ہیں۔  تاہم کچھ لوگوں کو تحفظ حاصل کرنے کیلئے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کو دھمکیاں دی جاتی ہیں، یا تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو پولیس (politiet)  آپ کیلئےحفاظتی اقدامات کرنے پر غور کرے گی۔ ان اقدامات میں حفاظتی الارم، ملنے کی ممانعت اور خفیہ پتہ شامل ہیں۔

 ہنگامی پناہ کے مراکز (krisesenter) فوری ضرورت کے موقع پر حفاظت فراہم کرتے ہیں، اور بہت سے لوگ ان کے ذریعے تشدد سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں۔ ہنگامی پناہ کے مراکز  کے ساتھ ساتھ پولیس بھی معلومات اور رہنمائی فراہم کر سکتی ہے اور  مظلوموں اور تشدد کرنے والوں، دونوں کا صحت اور سماجی خدمات کے ادارے (helse- og sosialetaten)، فیملی کاؤنسلنگ آفس (عائلی مشاورت کے دفتر) (familievernkontor)، ادارہ تحفظ بچگان (barnevern)، ہنگامی پناہ کے مراکز (krisesenter)، علاج کی سہولیات، وکیل، جرائم کا نشانہ بننے والوں کیلئے مشاورتی دفتر (Rådgivningskontor for kriminalitetsofre)  یا دوسرے مدد کرنے والوں سے رابطہ کروانے میں ممد ہو سکتی ہے۔

 اگر تشدد کرنے والا آپ کا کوئی قریبی عزیز ہو تو اکثر پولیس میں رپورٹ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تشدد کا نشانہ بننے والے کئی لوگ خود رپورٹ درج نہیں کروا سکتے چاہے رپورٹ درج کروانے کی اہم وجوہ موجود ہوں۔ یہ ممکن ہے کہ سنگین تشدد کی صورت میں پولیس مظلوم شخص پر سے رپورٹ درج کروانے کا بوجھ کم کرنے اور اس پر سے ذمہ دار ی ہٹا لینے کی خاطر خود بخود تفتیش شروع کر لے –  اس سے قطع نظر کہ کیا مظلوم فریق خود ایسا چاہتا ہے یا نہیں۔ اسے سرکاری استغاثہ کہتے ہیں۔

 کیا آپ کو زنا بالجبر یا کسی اور طرح کی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گيا ہے؟

جنسی زیادتی کی بہت سی مختلف صورتیں ہیں اور شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ کیا آپ کے ساتھ ہونے والا سلوک جنسی زیادتی تھی؟

 جنسی زیادتی سے مراد کسی کی مرضی کے خلاف ہونے والی تمام جنسی حرکات ہیں۔ جنسی زیادتی میں ایسی حرکتیں یا حرکتوں کی کوششیں شامل ہیں جن میں جسم کو چھوا جاۓ جیسے ہاتھ لگانا، جنسی اعضا کو چھونا، چاٹنا، چوسنا، مشت زنی کرنا، ہم بستری جیسی حرکتیں، ہم بستری اور زنا بالجبر، اور جسم کو چھوۓ بغیر ایسی حرکتیں یا حرکتوں کی کوششیں جیسے جنسی گفتگو، جنسی اعضا دکھانا، فوٹو کھینچنا، فلم بنانا، تاک جھانک اور فحش فلمیں یا تصویریں دکھانا۔

 زیادتی مظلوم فریق کی مرضی کے خلاف کی جاتی ہے یا ایسی صورت میں جب مظلوم فریق رضامندی دینے کے قابل نہ ہو۔ زیادتی اس طرح ہو سکتی ہے کہ مظلوم فریق سے دھوکے، دباؤ یا دھمکی کے ذریعے دوسروں کے ساتھ جنسی حرکات کروائی جائیں، یا مظلوم فریق کو دوسروں کو جنسی حرکات کرتے ہوۓ دیکھنے پر محبور کیا جاۓ یا مظلوم فریق کو دوسروں کے سامنے خود اپنے ساتھ جنسی حرکات کرنے پر مجبور کیا جاۓ۔ عمر اور صنف سے قطع نظر، زیادتی کسی بھی شخص کے ساتھ ہو سکتی ہے، اور چاہے انسان ہوش میں ہو، نشے میں ہو یا سویا ہوا ہو، زیادتی کو زیادتی ہی سمجھا جاۓ گا۔

 زنا بالجبر اور دوسری قسموں کی جنسی زیادتیاں قریبی رشتے میں بھی ہو سکتی ہیں اور  اس کے علاوہ بھی ہو سکتی ہیں۔

 چاہے آپ یقین سے نہ کہ سکتے ہوں کہ آیا آپ کے ساتھ ہونے والا سلوک زیادتی تھی، آپ امدادی اداروں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ جو کچھ ہوا ہو، آپ کو اس کے بارے میں اپنے کسی واقف سے بھی بات کرنی چاہیئے۔ بات کرنے سے آپ کو  اپنے ساتھ ہونے والے واقعے اور اپنی سوچوں اور جذبات کو الفاظ میں ڈھالنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اپنے آس پاس کے لوگوں سے سہارا اور رہنمائی حاصل کرنا بھی اچھا ہو سکتا ہے۔ شاید آپ کو یہ طے کرنے میں مشکل ہو رہی ہے کہ کیا آپ کو رپورٹ درج کرانی چاہیئے؟ ناروے میں جنسی زیادتی کی رپورٹ درج کرانے یا نہ کرانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے آپ کو وکیل سے تین گھنٹوں کی مفت مدد حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، اور وکیل سے بات کرنے کے نتیجے میں آپ کسی طرح پابند نہیں ہوتے۔

 اپنے جی پی (معمول کے ڈاکٹر)  (fastlegen) یا ہیلتھ سسٹر(helsesøster)، جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والوں کیلئے امدادی مرکز (overgrepsmottak)، قریبی شخص کی جانب سے جنسی حملے اور جنسی زیادتی کیلئے امدادی مرکز
(Støttesenter mot incest og seksuelle overgrep, SMISO
DIXI) DIXI) یا پولیس (politiet)  سے رابطہ کر کے یہ سمجھنے کیلئے مدد حاصل کریں کہ کیا ہوا ہے، آپ کس طرح اپنا ذہن صاف کر کے خود کو سنبھالیں گے اور آیا آپ رپورٹ درج کرائیں گے۔  

زنا بالجبر یا جنسی زیادتی کے بعد عام ردعمل

کیا آپ ڈر سے اچھل پڑتے ہیں اور خوفزدہ ہیں؟ کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا شاید وہ دراصل آپ ہی کی غلطی ہے؟ کیا آپ کو بہت شرمندگی ہے اور جو کچھ ہوا، اس کے بارے میں سوچنا بھی شرمناک لگتا ہے؟ کیا آپ کو چھوٹے بڑے کاموں پر توجہ برقرار رکھنے میں مشکل ہوتی ہے؟

 تشدد کا نشانہ بننے کے بعد یہ سب کچھ بالکل عام ہے، چاہے تشدد کا ایک واقعہ ہوا ہو یا بار بار ایسے واقعات ہوئے ہوں۔

 اگرچہ تشدد کے بعد پیش آنے والے ردعمل کی کوئی حتمی صورت بیان نہیں کی جا سکتی، ہمیں اس بارے میں خاصا علم ہے کہ تشدد کے بعد کے فوری عرصے میں اور آئندہ چل کر کونسے جذبات اور ردعمل پیش آنا عام ہے، چاہے ایسا کوئی ایک واقعہ ہوا ہو یا تشدد اور زیادتی ایک عرصے تک چلتی رہی ہو۔ ان میں سے کچھ ردعمل یہ ہیں:

  • گھبراہٹ اور خوف
  • شرم
  • جو کچھ ہوا، وہ بعد میں بھی بار بار ہوتا لگے
  • نیند کے مسائل
  • خود کو الزام دینا اور احساس جرم
  • توجہ برقرار رکھنے اور یادداشت کے مسائل
  • چڑچڑے پن اور غصے میں اضافہ
  • جسمانی تکلیفیں
  • اپنے اردگرد کے ماحول کے ساتھ واسطے میں مسائل
  • قربت اور جنسی زندگی میں مسائل
  • غمگین رہنا
  • اپنا کنٹرول رکھنے کی طلب میں اضافہ
  • بے حسی
  • عدم اعتماد
  • واقعے کو معمولی قرار دینا اور اس بارے میں عدم یقین کی کیفیت کہ دراصل کیا ہوا تھا
  • جارحانہ رویہ
  • الگ تھلگ ہو جانا
  • تنہائی، خود کو بالکل اکیلا محسوس کرنا

 بعض دفعہ، طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود، ایسے رد عمل ختم نہیں ہوتے اور کچھ لوگوں کے سلسلے میں نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ انہیں ڈپریشن، گھبراہٹ، نفسیاتی مسائل کی وجہ سے  کھانے کے امراض، پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر یعنی صدمات کے بعد ذہنی دباؤ کی وجہ سے دیرینہ مسائل(PTSD) یا نشے کی لت جیسے امراض تشخیص کیے جاتے ہیں۔

اگر آپ کی تکلیفیں جاری رہیں تو کسی سے بات کرنا یا ماہرانہ مدد حاصل کرنا اہم ہے تاکہ جو کچھ ہوا، آپ اس کے بارے میں اپنا ذہن صاف کر  کے سنبھل سکیں۔ اپنے جی پی (معمول کے ڈاکٹر) (fastlegen) یا ہیلتھ سسٹر (helsesøster)، جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والوں کیلئے قریب ترین امدادی مرکز (overgrepsmottak)  یا ہنگامی پناہ کے مرکز (krisesenter)، یا DIXI) DIXI) سے رابطہ کریں۔ اگر آپ کو ضرورت ہو تو آپ کا جی پی آپ کو ماہر نفسیات کے پاس بھیج سکتا ہے۔

کیا آپ کا کوئی واقف تشدد کا شکار ہے؟

اس بات کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کو تشدد اور دھمکیوں کے واقعات کا علم ہو یا جنہیں کسی شخص کے سلسلے میں ایسی فکر ہو، وہ اس بارے میں اطلاع دیں۔ آپ کی اطلاع معمے کی وہ کڑی ہو سکتی ہے جس کے مل جانے پر  پولیس اور امدادی ادارے تشدد کے سلسلے کو پہچان سکتے ہیں۔

 اگر آپ کو شبہ ہے کہ آپ کے کسی واقف کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو آپ کو فون نمبر 02800 پر پولیس(politiet)  سے رابطہ کرنا چاہیئے۔ اطلاع دیتے ہوۓ آپ اپنا نام راز میں رکھ سکتے ہیں۔

 بچوں کیلئے اپنے گھرانے میں تشدد دیکھنا اتنا ہی سنگین ہو سکتا ہے جتنا خود تشدد کا نشانہ بننا۔ بچپن میں تشدد سے واسطہ پڑنا بہت نقصان دہ ہوتا ہے اور گھریلو تشدد کے اثرات میں بچے کو دیرپا نقصان پہنچنا بھی شامل ہے۔ اگر آپ کو کسی بچے کے بارے میں فکر ہو تو آپ بچوں اور نوجوانوں کیلئے الارم ٹیلیفون (alarmtelefonen for barn og unge, 116 111) پر بھی فون کر سکتے ہیں،  بلدیہ میں ادارہ تحفظ بچگان (barnevernet)  کو اطلاع دے سکتے ہیں یا فون نمبر 02800 یا ایمرجنسی نمبر  112پر براہ راست پولیس (politiet) کو فون کر سکتے ہیں۔

 کیا آپ کسی کو تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بناتے ہیں؟

اگر آپ غصیلے مزاج کے ہیں اور دوسروں کو ڈراتے ہیں، مارتے ہیں، ٹھوکریں لگاتے یا دھمکیاں دیتے ہیں، دوسروں کی بے عزتی کرتے ہیں، دوسروں پر زیادتی کرتے ہیں یا حکم چلاتے ہیں، تو آپ تشدد کے مرتکب ہوتے ہیں۔

خوش قسمتی سے آپ کو خود میں تبدیلی لانے کیلئے مدد مل سکتی ہے۔ جو لوگ دوسروں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، انہیں بھی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔  اگر آپ اعتراف کر لیں کہ آپ کو تشدد کرنے کا مسئلہ ہے تو آپ مسئلہ حل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
چاہے آپ کو یقین سے علم نہ ہو کہ یہ تشدد ہے، آپ امدادی اداروں  (hjelpeapparatet)سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ جو کچھ ہوا ہو، آپ کو اس کے بارے میں اپنے کسی واقف سے بھی بات کرنی چاہیئے۔ بات کرنے سے آپ کو  متعلقہ واقعے اور اپنی سوچوں اور جذبات کو الفاظ میں ڈھالنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے آپ کو اس سلسلے میں بھی مدد مل سکتی ہے کہ آپ دوبارہ تشدد کا ارتکاب نہ کریں۔