Dinutvei.no Logo Nasjonal veiviser
ved vold og overgrep

پولیس کیا کر سکتی ہے؟

کیا آپ تشدد یا حملہ کی/کے شکار حال میں یا پہلے ہوئی/ہوئے ہیں؟ پولیس مشورہ دے سکتی ہے اور رہنمائی کر سکتی ہے، باضابطہ شکایت درج کر سکتی ہے اور تحفظ کی ضرورت کا جائزہ لے سکتی ہے.

قریبی رشتہ داروں میں تشدد اور جسنی استحصال قابل سزا جرائم ہیں جنکی پڑتال پولیس پر لازمی ہے.  کسی جرم کی رپورٹ کرنا متشدد رشتہ سے باہر آنے میں ایک اہم قدم ہو سکتا ہے.

مداخلت کرنے اور تحقیق کرنے کے لئے پولیس کو اسکی اطلاع لازمی ہونی چاہئے کہ قابل سزا جرم کا ارتکاب ہوا ہے. یہ آپ کی جانب سے یا متاثر فرد کی طرف سے جرم کی رپورٹنگ کے ذریعہ یا آپ کے بدلے کسی اور شخص کے پولیس کو بتانے پر ہو سکتا ہے. اگر قابل سزا جرم بہت پہلے ہوا ہے – اور والدین یا مجرم کی موت ہو چکی ہے – تب بھی آپ جرم کی رپورٹنگ کر سکتے ہیں.

> رپورٹ کرتے وقت جانچی جانے والی فہرست

پولیس کو جب کسی سنجیدہ معاملہ کی اطلاع ملتی ہے تو وہ کبھی کبھی عصمت دری کی/کے متاثرہ کی جانب سے کوئی شکایت درج کئے بغیر ہی تحقیق اور مجرمانہ معاملے کی کارروائی کو شروع کر دیتی ہے۔ اسے “فوجداری مقدمہ” کہا جاتا ہے۔

آپ کو پولیس سے رابطہ کرنے سے قبل جرم کی رپورٹ کرنے کا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے

پولیس باہمی تعاون کا اچھا ساتھی ہو سکتی ہے اور مشورہ اور رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔ آپ کو پولیس سے رابطہ کرنے سے قبل جرم کی رپورٹ کرنے کا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے نا ہی آپ کو اپنا نام یا ملوث لوگوں کا نام بتانے کی ضرورت ہے۔ پولیس ضروری ہونے پر ترجمان پیش کر سکتی ہے۔

اگر آپ کو خوف ہو تو ایسی صورت میں پولیس آپ کے ساتھ اسکے حل پر غور کرے گی اور حسب ضرورت حفاظتی اقدامات لے گی.

> تشدد اور دھمکیوں کے شکار لوگوں کے لئے تحفظاتی اقدامات


اگر آپ کسی سنگین خطرے میں ہیں تو 112 پر پولیس کو کال کریں

اپنی مقامی پولیس سے رابطہ اس پر کریں: 02800

پولیس ویب سائٹ

KORONAKRISEN – HJELP VED VOLD OG OVERGREP

Døgnåpne tjenester:

Er du voksen og trenger selv hjelp eller ønsker å hjelpe en annen voksen?

Er du bekymret for et barn eller trenger hjelp i omsorgen for barn?

På nettsidene våre finner du oversikt også over andre hjelpetilbud. Det varierer hva de ulike tjenestene kan tilby i øyeblikket. Vi anbefaler deg likevel å ta kontakt og sjekke ut hvilken hjelp du kan få. Spørsmål- og svartjenesten på dinutvei.no er også åpen.