Dinutvei.no Logo Nasjonal veiviser
ved vold og overgrep

جبری شادی اور خواتین ختنہ کے لئے ریڈ کراس ہیلپ لائن کیا ہے؟

کیا آپ کے اہل خانہ میں سے کوئی یہ فیصلہ کرنا چاہتا ہے کہ آپ کو کس سے شادی کرنی چاہئیے؟ کیا آپ کو خواتین کے ختنہ کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے؟ جبری شادی اور خواتین کے ختنہ کے لئے ریڈ کراس ہیلپ لائن آپ کو مشورہ دے سکتی ہے کہ آپ ان حالات کے ساتھ کیسے نمٹیں۔

ریڈ کراس ہیلپ لائن غیرت سے متعلق تشدد کی مختلف اشکال کے بارے میں مشورہ دیتی ہے مثلاً:

  • شادی کرنے سے متعلق دباؤ
  • آپ کے قریبی افراد کی جانب سے شدید قابو
  • آپ کی مرضی کے خلاف غیر ملک میں چھوڑ دینے کا خدشہ
  • خواتین کے ختنہ جو پہلے ہی ہو چکی ہیں، یا جہاں اس کے ہونے کا خطرہ ہو
  • خاندانی تنازعات

ریڈ کراس ہیلپ لائن کے بارے میں ایک فلم دیکھیں:

 

ریڈ کراس ہیلپ لائن کی طرف سے ان لوگوں کو معلومات اور مشورہ پیش کیا جاتا ہے:

  • جو دوستوں اور تعلقات والوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں
  • والدین جو نئی تہذیب میں اپنے بچوں کی پرورش کو دشوار کن سمجھتے ہیں
  • صحت اور معاونت کی خدمات میں عملہ یا دوسرے افراد جو اپنے کام میں غیرت سے متعلق تشدد سہنے والے لوگوں کا سامنا کرتے ہیں

ریڈ کراس ہیلپ لائن کو چلانے والا عملہ آپ کی دیگر معاونت کی خدمات سے رابطہ کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

آپ گمنام رہ سکتے ہیں، یعنی آپ کو اپنا نام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ عملہ جو ریڈ کراس ہیلپ لائن کو سنبھالتا ہے رازداری کا پابند ہوتا ہے جسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ آپکے بارے میں یا آپکی رضامندی کے بغیر دوسروں کو معلومات نہیں دینگے۔

آپ  info.tvangsekteskap@redcross.no پر ای میل بھی بھیج سکتے ہیں، یا Facebookکے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں۔

رابطہ

ٹیلی فون: 815 55 201.

ای-میل: info.tvangsekteskap@redcross.no

جبری شادی، خاتون ختنہ اور منفی سماجی کنٹرول کے بارے میں ریڈ کراس ہیلپ لائن۔

KORONAKRISEN – HJELP VED VOLD OG OVERGREP

Døgnåpne tjenester:

Er du voksen og trenger selv hjelp eller ønsker å hjelpe en annen voksen?

Er du bekymret for et barn eller trenger hjelp i omsorgen for barn?

På nettsidene våre finner du oversikt også over andre hjelpetilbud. Det varierer hva de ulike tjenestene kan tilby i øyeblikket. Vi anbefaler deg likevel å ta kontakt og sjekke ut hvilken hjelp du kan få. Spørsmål- og svartjenesten på dinutvei.no er også åpen.